Tuesday, March 12, 2013

رمضان المبارک میں کھجور کا شربت


  رمضان المبارک میں کھجور کا شربت  
جولائی کی گرمی اور عشق کی گرمی دونوں اکٹھی ہورہی ہیں‘ ایک طرف موسم کی گرمی اور ایک طرف عشق الٰہی اور عشق رسولﷺ کی گرمی‘ ویسے عاشق ہمیشہ جیت ہی جاتا ہے گرمی اس سے بھی کہیں زیادہ ہو‘ وہ شہروں میں ہو یا دیہاتوں میں وہ صحراؤں میں ہو یا کالے پہاڑوں میں عشق الٰہی اور عشق مصطفیﷺ میں گُندھے عاشق ہمیشہ جیت ہی جاتے ہیں۔
رمضان کے اس مہینے میں ایک شربت سے متعارف کراتا ہوں جس کا تعلق دور نبوی ﷺ کے معمولات سے ہے احادیث کی کتابوں میں نبوی غذاؤں کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو نبیذ ایک ایسی اصطلاح ملتی ہے جس کا استعمال اہل عرب اب بھی کرتے ہیں لیکن عجم میں اس کا استعمال ختم ہوگیا ہے۔ گڑ ویسے کھائیں تو اپنے مزاج کی گرمی کا اظہار کرتا ہے اور اسی کا شربت بنا کر پی لیں تو بے بہا ٹھنڈک اور تسکین کو ظاہر کیے بغیر نہیں رہتا بالکل اسی طرح کھجور ہے۔
 کھجور کا استعمال گرمی اور تری دکھاتا ہے لیکن اگر اسی کھجور کو پانی میں بھگو کر اور اس کا شربت بنایا جائے تو اس سے زیادہ پرتاثیر اور تسکین سے بھرپور شاید کوئی شربت ہوگا۔ پہلے دور میں لوگ کھجور کے فطری وٹامن جو کہ اے سے زیڈ تک ہیں ان سے بھرپور استفادہ کرتے تھے وہ وٹامن جانتے نہیں تھے لیکن وٹامن سے مدد ضرور لیتے تھے آج ہم وٹامن جانتے ہیں لیکن مصنوعی وٹامنز کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ فطرت سے بھرپور کھجور وٹامنز کا ایک کیپسول ہے اور اس سے استفادہ خوش نصیب ہی کرتا ہے‘ ویسے بھی اس وقت پوری دنیا میں دل کے امراض‘ انجائنا‘ ہارٹ اٹیک کیلئے کھجور کا استعمال بہت تیزی سے رواج پکڑ رہا ہے کیونکہ دنیا واپس فطرت کی طرف پلٹ رہی ہے اور کھجور فطرت ہے۔ میں لاہور کے درو دیوار کو دیکھتا ہوں ہر کوچہ و بازار میں کھجور کا استعمال اور کھجور کا درخت اپنا رخ دکھا کر یہ اعلان کررہا ہے کہ لوگو! ایک وقت تھا کہ میرے درخت کو کاٹ دیا جاتا اور رنگ برنگے پودے اور درخت لگائے جاتے لیکن میری حقیقت واضح ہے کہ کھجور سارے انبیاء علیہ السلام کی سنت سارے صحابہ اہل بیت رضوان اللہ علیہ اجمعین‘ اولیاء صالحین رحمۃ اللہ علیہ کی سنت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے اندر شفاء کی وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کو مصنوعی اور کیمیکل بھری ادویات کی طرف جانے نہیں دیتیں۔ آئیں! ہم ذرا کھجور کا شربت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں کہ رمضان میں اس سے بھرپور لطف اٹھائیں۔ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ رمضان کا مہینہ آرہا گرمی کا مہینہ ہے‘ پیاس‘ لو‘ حدت‘ اور حبس مجھ سے ویسے ہی برداشت نہیں ہوتی پھر روزے کے ساتھ کیسے برداشت ہوگی؟ میں نے کہا بالکل آسان ہے‘ آپ ایسا کریں روزہ رکھنے کے بعد دو بڑے چمچ گلاب کے پھولوں کا گلقند کھاکر اوپر سے ایک گلاس پانی پی لیں یا پھر اس سے بہتر ہے کہ گلاب کے پھولوں کے دو چمچ کھاکر اوپر سے کھجور کا شربت پی لیں اسی طرح افطار کے وقت کھجور سے افطار کرکے چسکی چسکی کھجور کا شربت پئیں‘ گھونٹ گھونٹ نہ پئیں‘ پیاس گرمی‘ حدت‘ جلن سارے جسم کی نڈھالی پل بھر میں ختم ہوجائے گی۔
 ویسے بھی سحری کے بعد گلقند کھانے والا اور کھجور کے گلاس کا ایک شربت پینے والا سارا دن ایسے تروتازہ رہے گا کہ احساس تک نہیں رہتا کہ اسے روز ہے کہ نہیں ہے۔ جتنا بھی پرمشقت کام کرے اور جتنی زیادہ گرمی اور لو میں دن کا جتنا وقت گزارے اسے زیادہ سے زیادہ یہی احساس ہوگا کہ میرا روزہ ہے اس سے زیادہ احساس بالکل نہیںہوگا کیونکہ کھجور کا شربت اور گلقند اپنے اندر ایک انوکھی افادیت رکھتے ہیں میں نے جب اس بندے کو یہ طریقہ بتایا تو وہ مطمئن ہوگیا اور پورا رمضان اسی ترکیب کے ساتھ گزارا۔ رمضان کے درمیان ملا تو کہنے لگا بہت مطمئن ہوں‘ روزے کا احساس تک نہیں بلکہ اب تو جی چاہتا ہے کہ رمضان دو ماہ کا ہوجائے۔ اس سے پہلے تو ایک دن کے روزے کیلئے بھی طبیعت میں بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ ایک نہیں بے شمار مثالیں میرے پاس ہیں جب بھی کسی کو میں نے کھجور کے شربت پینے کی ترکیب دی سارا گھر کھجور کا شربت پینے لگا اور کھجور کا شربت پینے سے جہاں قلب و جگر کی تسکین ہوتی ہے وہاںکھجور کا شربت خود ہیپاٹائٹس‘ معدے کی تیزابیت‘ پیاس کی شدت‘ ہاتھ پاؤں کی جلن‘ منہ کی خشکی‘لعاب دہن کا کم ہونا‘ پیشاب کی جلن اور قبض کا خود بہترین علاج ہے۔ ایسے لوگ جو کسی بھی ہٹیلی پیچیدہ مرض میں مبتلا ہوں اور روزہ رکھنے سے قاصر ہوں۔ وہ مایوس اور پریشان نہ ہوں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں یہ بات ملتی ہے وہ گرمی کے روزے اور سردیوں کی تہجد کی دعائیں مانگتے تھے کیونکہ گرمی کے دن بڑے ہوتے ہیں اور سردیوں کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ آئیں آپ کو احادیث کے حوالے سے نبیذسے متعارف کرائیں۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نبیذ بنانے کیلئے خشک اور کچی کھجور ‘خشک انگور اور خشک کھجور کے ملانے کچی اور تر کھجور کے ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا ہر ایک سے الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (رواہ مسلم)
نبیذ بنانے کا طریقہ: حسب مقدار کھجور لیکر شام کو (اگر کھجوریں خشک ہوں تو ان کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں اور گٹھلیاں نکال دیں) پانی میں بھگو دیں یعنی اگر کھجور ایک پاؤ ہو تو اس میں پانی تقریباً دو کلو ہو۔ صبح اٹھ کر کھجور کو ہاتھوں سے ملیں ‘ملتے ملتے تمام کھجور اور اس کے ریشے پانی میں حل ہوجائیں گے جی چاہے چھان لیں اور نوش جان کریں‘ ورنہ بغیر چھانے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر کھجوریں تازہ ہوں تو انہیں مت توڑیں اور ثابت ہی بھگودیں صبح اٹھ کر مل چھان کر یا مل کر گٹھلیاں نکال دیں اور نوش کریں۔ چاہیں تو کھجور کے شربت میں دودھ بھی ملا سکتے ہیں اس طرح اس کی افادیت بھی بڑ ھ جاتی ہے اور جنت کے دو میوے یعنی دودھ اور کھجور اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی میں اکیلا کھجور کا شربت پینا بہت زیادہ ثابت ہے۔ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صبح ناشتے میں نبیذ کا استعمال کرتے۔ بڑے بڑے محدثین اولیاء صالحین حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی نبیذ کا استعمال زیادہ کرتے۔ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے بھی نبیذ کا استعمال ثابت ہے۔
احتیاط: نبیذ کا شربت بنا کر اگر گرمی کا موسم ہے ٹھنڈی جگہ یا فریج میں رکھیں ۔ صبح کا بھگویا ہواشام کو استعمال کریں اور شام کابھگویا ہواصبح استعمال کریں اگر فریج میں رکھیں تو خراب نہیں ہوتا لیکن احتیاطاً 12گھنٹے سے زیادہ نہ رکھیں۔ بھگونےکے ایک گھنٹے بعد گرائینڈ کرکے بھی فوری استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک دن گزرنے سے اور شدید گرمی سے اس کے اندر خمیر پیدا ہوتا ہے اور خمیر کا پیدا ہوجانا اس کے استعمال کو مشکوک بنادیتا ہے۔ لہٰذا کوشش کریں اس کو تازہ ہی استعمال کری

رمضان شریف میں شادی کیلئے انتہائی آزمودہ ظیفہ


رمضان شریف میں شادی کیلئے انتہائی آزمودہ ظیفہ  
رمضان شریف کے گیارہویں اور بار ہویں روزے کی درمیانی رات کو بعد نماز عشاء دو دو   رکعت کر کے 12نفل اس طرح پڑہیں کے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک سورہ اخلاص پڑہیں۔ 12نفل پڑھ کر 100مرتبہ درود شریف پڑہیں۔ پھر تمام نفل اور درود شریف کا ثواب حضور پاکﷺ کو پہنچائیں اور پھر حضور پاک ﷺ کے وسیلے سے اﷲ تعلی کے حضور گڑگڑا کر خلوص دل ،انکساری،عاجزی سے کم از کم 15منٹ   اپنے لئے یا اپنی بہن بیٹی کیلئے اچھے رشتے  کی دعا کریں۔ انشاءاﷲ تعلی اگلے رمضان سے پہلے مراد پوری ہو گی۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ 

 اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱﴾ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِؕ﴿۳﴾ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾ صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ 

 قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾

شب قدر میں عبادت کا انعام


شب قدر میں عبادت کا انعام
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
 حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شب قدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی جماعت کے ساتھ آتے ہیں اور ہر اس بندہ کےلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ پھر جب انہیں عید الفطر کا دن نصیب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر اپنے فرشتوں کے سامنے اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! اس مزدور کی اُجرت کیا ہے جو اپنا کام پورا کر دے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اس کی اجرت یہ ہے کہ اس کو پورا معاوضہ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میرے بندوں اور میری لونڈیوں نے ( میرے مقرر کئے ہوئے) فرض کو ادا کر دیا ہے اب وہ گھروں سے دعا کےلئے عید گاہ کی طرف نکلے ہیں‘ مجھے قسم ہے اپنی عزت کی‘ اپنے جلال ‘ اپنی بخشش و رحمت ‘ اپنی عظمت ِ شان اور اپنی رفعت ِ مکان کی کہ میں ان کی دعاﺅں کو قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! اپنے گھروں کو لوٹ جاﺅ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پس مسلمان واپس ہوتے ہیں عیدگاہ سے اس حال میں کہ ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
 (بیہقی)

رمضان المبارک میں ان دس باتوں پر ضرور توجہ کریں


  حال دل۔۔۔۔ رمضان المبارک میں ان دس باتوں پر ضرور توجہ کریں…
رمضان المبارک کی برکت اور عظمت جہاں قرآن و حدیث سے بہت زیادہ ثابت اور واضح ہے وہاں تاریخ اور مشاہدات کے اعتبار سے ایک قابل یقین حیثیت رکھتی ہے۔ قارئین کیلئے کچھ ایسی چیزیں سامنے لانا چاہتا ہوں جو آپ کو رمضان میں نفع مند ساتھی کی حیثیت سے فائدہ دینگی۔ سب سے پہلی بات کہ پورے رمضان میں ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم گفتگو کم کریں گے اور خاص طورذکر
 رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ

اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا ہےوضو بے وضو ہر حالت میں لاکھوں کی تعداد میں پڑھیں گے۔
دوسری بات :رمضان میں ہرپل باوضو رہنے کی کوشش کریں جو عمل رمضان میں مضبوط ہوتا ہے رمضان کے علاوہ بھی وہی عمل ہمیشہ زندگی میں رہتاہے۔
 تیسری چیز: اگر آپ کا کاروبار مشکوک ہے تو کسی سے قرضہ لیکر یعنی اس شخص سے جس کا رزق طیب و طاہر ہو اپنے روزے رکھے اور پھر اس کو اپنے مال سے قرضہ اتار دیں۔ کھانا پینا‘ افطاری‘ پانی‘ کھجور‘نمک‘ مرچ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی طیب و طاہر رزق سے لیں ۔ 
چوتھی چیز: اپنے من کو سمجھائیں کہ دیکھ رمضان میں اگر تو طیب و طاہر رزق کھا سکتا ہے تو غیر رمضان میںبھی ایسا ممکن ہےاور سارا رمضان اللہ سے اپنے لیے اور اپنی نسلوں کیلئے حلال و طاہر رزق ضرور مانگا کریں۔
 پانچویں چیز: گلقند 250 گرام اور چھوٹی الائچی دس گرام، چھوٹی الائچی پیس کر گلقند میں ملالیں صبح سحری کے بعد ایک بڑا چمچ آخر میں گلقند کا کھالیں۔ سارا دن پیاس کا احساس نہیں ہوگا کمزوری اور نقاہت نہیں ہوگی۔ حتیٰ کہ اگر آپ سخت گرمی میں کام کریں گے تو بھی فائدہ ہوگا چاہیں تو افطاری کے بعد بھی کھاسکتے ہیں۔
چھٹی چیز: قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کریں اور قرآن پاک کے ہر حرف کو اللہ کے سامنے فریادی بنائیں کہ وہ آپ کیلئے دعا کرے کہ سال کے دوسرے دنوں میں بھی آپ کو کثرت تلاوت کی توفیق نصیب ہو۔
 ساتویں چیز: اپنے کان اور نظروں کی حفاظت سخت سے سخت کریں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں اور ابھی سے اس ساتویں چیز پر آنے کیلئے روزانہ حسب توفیق مالی صدقہ کریں اور اللہ سے مانگیں کہ یااللہ! میری زندگی سے گناہوں کو دور کردے۔
 آٹھویں چیز: یہ فیصلہ کریں کسی سفید پوش اور سوال نہ کرنے والے شخص کے گھر میں اتنا راشن ضرور دونگا کہ اس کے روزے باسہولت ادا ہوسکیں۔
 نویں چیز: صدقہ فطر کھجور کا دینا بھی سنت ہے اور موجودہ اعتبار سے فی آدمی تقریباً پانچ سو روپے بنتا ہے۔ بخیل نہ بنیں‘ پچاس ساٹھ میں جان نہ چھڑوائیں بلکہ فی کس پانچ سو روپے صدقہ فطر دیں تاکہ چار دن کسی غریب کا چولہا گرم رہے۔دسویں بات: سحری کیلئے تو ویسے ہی اٹھتے ہیں کم ازکم دو نفل تہجد‘ توبہ‘ استقامت‘ شکرانہ اور حاجت کی نیت کرکے ضرور پڑھا کریں۔ دونفل میں یہ سب نیتیں اکٹھی کرسکتے ہیں۔ امید ہے میری ان دس باتوں پر ضرور توجہ دیں گے۔

انتیسویں رات


                                             انتیسویں رات
انتیسویں شب کو چاررکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ قدر ایک ایک بار‘ سورئہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے سورئہ الم نشرح ستر مرتبہ پڑھے۔ یہ نماز کامل ایمان کے واسطے بہت افضل ہے۔ انشاءاللہ اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے مکمل ایمان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
رمضان المبارک کی انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر ایک ایک بار‘ سورئہ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے درود شریف ایک سو دفعہ پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کو دربارِ خداوندی سے بخشش و مغفرت عطا کی جائے گی۔رمضان المبارک کی انتیسویں شب کو سات مرتبہ سورئہ الواقعہ پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ ترقی رزق کیلئے بہت افضل ہے۔رمضان المبارک کی کسی شب میں بعد نمازِ عشاءسات مرتبہ سورئہ القدر پڑھنا بہت افضل ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے سے ہر مصیبت سے نجات حاصل ہوگی۔

ستائیسویں شب


                                                           ستائیسویں شب
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے مہینہ کی ستائیسویں رات صبح ہونے تک عبادت میں گزاری وہ مجھے رمضان المبارک کی تمام راتوں کی عبادت سے زیادہ پسند ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی اے ابا جان ! وہ ضعیف مرد اور عورتیں کیا کریں جو قیام پر قدرت نہیں رکھتے؟
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا وہ تکیے نہیں رکھ سکتے جن کا سہارا لیں اور اس رات کے لمحات میں سے کچھ لمحات بیٹھ کر گزاریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں‘ لیکن یہ بات اپنی امت کے تمام ماہ رمضان کو قیام میں گزارنے سے زیادہ محبوب ہے۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور نبی ا نے فرمایا کہ جس نے شب قدر جاگ کر گزاری اور اس میں دو رکعت (نفل) نماز ادا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ہے۔ اسے اپنی رحمت میں جگہ دیتا ہے اور جبرئیل علیہ السلام اس پر اپنے پَر پھیرتے ہیں اور جس پر جبرئیل علیہ السلام نے اپنے پَر پھیریں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو جو کوئی دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد سات سات مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ یہ تسبیح پڑھے۔
 اَستَغفِرُ اللّٰہَ العَظِیمَ الَّذِیلَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الحَیُِّ القَیُّومُ وَ اَتُوبُ اِلَیہِo
تو انشاءاللہ تعالیٰ اس کے ماں باپ اور اس کے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی۔ پروردگار عالم اس کے والدین کی مغفرت فرمائے گا اور اسے جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اس کے علاوہ اس نماز کے پڑھنے والے کو نیکی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ جو کوئی
 رمضان المبارک کی ستائیسویں شب چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین تین مرتبہ سورة قدر اور پچاس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد بارگاہِ الِٰہی میں سجدہ ریز ہو کر نہایت یکسوئی کے ساتھ دعا مانگے ‘جو بھی جائز حاجت ہو گی انشاءاللہ تعالیٰ پوری ہوگی۔ رمضان المبارک کی
 ستائیسویں رات کو چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ سورة التکاثر اور تین تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ بفضل باری تعالیٰ جب موت کا وقت قریب ہو گا تو اس سے موت کی سختی و شدت آ سان ہو جائیگی اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبر کاعذاب معاف فرما دے گا۔ رمضان المبارک کی
 ستائیسویں شب کو جو کوئی ساتوں حم والی سورتیں پڑھے تو انشاءاللہ تعالیٰ اسے گناہوں کی معافی عطا ہو گی۔ جو کوئی رمضا ن المبارک کی ستائیسویں شب کو
 دو دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورہ الم نشرح اور تین تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد ستائیس مرتبہ سورہ القدر پڑھے تو انشاءاللہ تعالیٰ اسے ثوابِ عظیم حاصل ہوگا۔

پچیسویں شب


                            پچیسویں شب
ماہ رمضان کی پچیسویں تاریخ کی شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر ایک بار، سورئہ اخلاص پانچ مرتبہ، ہر رکعت میں پڑھے۔ بعد سلام کے کلمہ طیبہ ایک سو دفعہ پڑھے۔ درگاہِ رب العزت سے انشاءاللہ بیشمار عبادات کا ثواب عطا ہو گا۔
پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر تین تین مرتبہ، سورئہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر دفعہ استغفار پڑھے۔ یہ نماز بخشش کیلئے بہت افضل ہے۔پچیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر ایک ایک مرتبہ، سورئہ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھے۔بعد سلام کے ستر دفعہ کلمہ شہادت پڑھے۔ یہ نماز عذابِ قبر سے نجات کیلئے بہت افضل ہے۔ پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورئہ دخان پڑھے۔ انشاءاللہ اس سورئہ کے پڑھنے کے باعث عذابِ قبر سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا۔پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورئہ فتح پڑھنا ہر کسی کیلئے بہت ہی افضل ہے۔

رمضان المبارک کی پچیسویں رات کو سات مرتبہ سورة فتح پڑھنا فضیلت و برکت کا باعث ہے۔ پچیسویں رات کو دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورة القدر اور پندرہ پندرہ مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ستر مرتبہ دوسرا کلمہ پڑھے۔ گناہوں سے معافی عطا ہو گی۔ رمضان المبارک کی پچیسویں رات کو چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورة القدر اور پانچ پانچ مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ نماز مکمل کرنے کے بعد ایک سو مرتبہ کلمہ طیبہ اور سورة الدخان پڑھنے سے بفضل باری تعالیٰ عذابِ قبر سے حفاظت رہتی ہے۔ پچیسویں رات کو چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد تین تین مرتبہ سورة القدر اور تین تین مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ گناہوں کی معافی عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نیکی کے کام کرنیکی توفیق عطا فرمائے گا۔

تئیسویں شب


                             تئیسویں شب
رمضان المبارک کی تئیسویں رات کو نماز عشاءو نماز تراویح کی ادائیگی کے بعد ایک مرتبہ سورة یاسین اور ایک مرتبہ سورة رحمن پڑھنا باعث برکت و فضیلت ہے۔ تئیسویں رات کو چار رکعت نفل نماز دو دور کعت اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد ایک مرتبہ سورة القدر اور تین تین مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد نہایت توجہ و یکسوئی کے ساتھ ستر مرتبہ درُودِ پاک پڑھے ۔بفضل باری تعالیٰ گناہوں کی معافی عطا ہو گی۔ تئیسویں رات کو ہی آٹھ رکعت نفل نماز دو دورکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورة القدر اور ایک ایک مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھے اور پھر بارگاہِ الٰہی میں اپنے گناہوں کی معافی کی دعا مانگے۔ بفضل باری تعالیٰ گناہوں کی معافی عطا ہو گی۔

ماہ مبارک کی تئیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ قدر ایک بار اور سورئہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ پھر بعد سلام کے ستر مرتبہ درود شریف پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ مغفرتِ گناہ کیلئے یہ نماز بہت افضل ہے۔ تیئسویں شب کو آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر ایک ایک دفعہ، سورئہ اخلاص ایک ایک بار پڑھے۔ اور بعد سلام کے ستر مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما کر انشاءاللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے گا۔تئیسویں شب کو سورئہ یٰسین ایک مرتبہ، سورئہ رحمن ایک دفعہ پڑھنی بہت افضل ہے۔

اکیسویں رات


                         اکیسویں رات
اکیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورة فاتحہ کے بعدسورئہ القدر ایک ایک بار، سورئہ اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے ستر مرتبہ درود پاک پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے دعائے مغفرت کریں گے۔
اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں بعد سورئہ فاتحہ کے سورئہ القدر ایک ایک بار، سورئہ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے نماز ختم کرکے ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ انشاءاللہ تعالیٰ اس نماز اور شب قدر کی برکت سے اللہ پاک اس کی بخشش فرمائے گا۔ماہ رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو اکیس مرتبہ سورئہ القدر پڑھنا بھی بہت افضل ہے۔

رمضان المبارک کی اکیسویں رات کو اکیس مرتبہ سورہقدر پڑھنے سے ثوابِ عظیم حاصل ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کی اکیسویں رات کو دو نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورة القدر اور تین تین مرتبہ سور اخلاص پڑھے۔ سلام پھیرنے کے بعد ستر مرتبہ درُود پاک اور ستر مرتبہ استغفار پڑھے۔ بفضل باری تعالیٰ گناہوں کی معافی عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ اس رات کی برکات سے یہ نماز پڑھنے والے کو بخش دے گا۔ اکیسویں شب کو ہی چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد ایک مرتبہ سورة القدر اور ایک مرتبہ سورة اخلاص پڑھے۔ سلام پھیرنے کے بعد ستر مرتبہ درُود پاک پڑھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فرشتے اس نماز کے پڑھنے والے کی مغفرت کےلئے دعا کریں گے۔

پانچ طاق راتوں کے نوافل


                  پانچ طاق راتوں کے نوافل
عابدوں اور زاہدوں کے طریقہ کے مطابق ان پانچ طاق راتوں میں حسب ذیل طریقہ سے نوافل پڑھے جائیں،جن کا ثواب بے پناہ ہے۔

شب قدر میں قبولیتِ دُعا



                          شب قدر میں قبولیتِ دُعا
شب قدرمیں ایک ایسی ساعت ہے کہ جس میں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ شب قدر میں ایسی جامع دعا مانگیں جو دونوں جہانوں میں فائدہ بخش ہو۔ مثلاً اپنے گناہوں کی بخشش اور رضائے الٰہی کے حصول کی دعا مانگی جائے۔ ام المومنین سیّدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیں کہ اگر مجھے لیلة القدر (شب قدر) کا پتہ چل جائے تو میں کونسی دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تو یہ دعا مانگ
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ العَفوَفَاعفُ عَنِّی 
”اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو درست رکھتا ہے مجھے بھی معاف کر دے
(ابن ماجہ)